پی آ ئی پی ایس کے بارے میں

 

کا  قیام ۔ایک خواب کی تعبیر (PIPS) پی آئی پی ایس

 پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے پارلیمانی خدمات پی آئی پی ایس کو پارلیمنٹیرینز کی تحقیق اور استعداد کار بڑھانے کے لئے   اپنی نوعیت کے پہلے اور ایک  خصوصی خود مختار ادارے کے طور پر پارلیمنٹ ایکٹ 15 دسمبر 2008 کے ذریعے قائم کیا گیا۔بہرحال عبوری طور پر اس ادارے نے اپریل 2006 کے بعد کام شروع کر دیا تھا۔

 

پاکستان کی پارلیمنٹ  ہمیشہ سے اس علم کی طاقت سے محروم رہی ہے جو بروقت ،درست ،قابل بھروسہ معلومات اور انتہائی حساس قومی معاملات کا تمام  پہلوئوں سے تجزیہ کرنے سے آتی ہے۔  پی آئی پی ایس کے قیام سے پہلے تک اس قسم کے ادارے کی اشد ضرورت کو محسوس کیا جا رہا تھا اوراس کا  اظہار کیا جا تا رہا تھا۔ 2005 میں ہونے والی، صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے اسپیکروں کی کانفرنس میں، قومی پارلیمنٹ کی قانون سازی کی اسٹیرنگ کمیٹی   ایل ڈی ایس سی نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں فیصلہ کیا اور ایک ادارے کے قیام پر کام کرنے کے لئے اٹھ ارکان قومی اسمبلی اور چار سینیٹرز کے علاوہ قومی اسمبلی اور سینٹ کی سیکر یٹیریٹ قیادت پر مشتمل ایل ڈی ایس سی کی کاروائی کی بنیاد پر مختلف تقابلی مطالعے کیے  ۔پی ایل ایس پی اور ایل ڈی ایس پی نے پارلیمنٹ کی قیادت کے ماتحت کام کرنے والے اور بورڈ آف گورنرز سے رہنمائی لینے والے  پی آئی پی ایس کو ایک خود مختار ادارے کے طور پر روشناس کرایا ۔

 

 پی آئی پی ایس ایکٹ کو منظور کرانے کے لئے پارٹیوں کے مابین اتفاق رائے :

2002 اور 2008کی قومی اسمبلیوں اور سینٹ کے ممبران کی مشترکہ کاوشوں سے نہ صرف منصوبے پر غور کیا گیا بلکہ پارٹیوں کے مابین وکالت کے ذریعے اس پر قا نون سازی کے عمل کو آگے بڑھایا گیا۔ دراصل پی آئی پی ایس پر قانون سازی ، سینٹ اور پاکستان قومی اسمبلی ،دونوں میں مختلف پارٹیوں کے مابین ہونیوالے مباحثوں کا حقیقی مظہر ہے ۔ پی آئی پی ایس بل پر تمام پارلیمنٹری پارٹیوں 'حکومت اور اپوزیشن کو مشترکہ کام کرتے دیکھا گیا ۔اس بل کا ڈرافٹ پاکستان مسلم لیگ ق کے سابق سینیٹر  چوہدری محمد انور بھنڈر نے تیار کیا  اور اس کی بھرپور حمایت  ایل ڈی ایس پی کے سابقہ ممبران نے کی۔ جیسا کہ قومی اسمبلی کے سابقہ ڈپٹی سپیکر سردار محمد یعقوب پاکستان مسلم لیگ ق ،سینیٹر محترمہ رخسانہ زبیری پاکستان پیپلز پارٹی اور سینیٹر اعظم خان سواتی جمعیت علما اسلام فضل الرحمن ،عوامی نیشنل پارٹی اے این پی ،ایل ڈی ایس سی 2008 کے ارکان ممبران قومی اسمبلی ڈاکٹر عذرا فضل پیچھو،ڈپٹی سپیکر جناب فیصل کریم کنڈی ،محترمہ یاسمین رحمن تمام کا تعلق پی پی پی سے ہے ،ممبر قومی اسمبلی ایاز صادق پاکستان مسلم لیگ)  نواز(  پی ایم ایل این ان سب نےتیرھوین قومی اسمبلی میں اتفاق رائے سے ،ایکٹ کے طور پر منظور کرانے کے لئے کردار ادا کیا ۔یو ایس ایڈ ۔ پی ایل ایس پی  پارٹی کے بانی چیف  ایلیا نور  ویلنٹائن  اور ان کے دو جاں  نشینوں کریسٹوفر شیلڈز  اور  کارمین لین  کی پارلیمنٹ کی  بھرپور مدد کرنےاور خاص طور پر ایل ڈی ایس سی کی، پی آئی پی ایس کو حقیقت بنانے کوسراہتے ہیں ۔چنانچہ رسمی طور پر دسمبر 2008 میں پارلیمنٹ کے متفقہ ایکٹ کے ذریعے اس ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا۔

 

پی آئی پی ایس کے بورڈ آف گونرز. وفاق پاکستان کا عکاس:  

پارلیمنٹ کی متفقہ حمایت سے پی آئی پی ایس کے قیام سے نہ صرف قومی اسمبلی اور سینٹ کے مقصد اور نقطہ نظر کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ پنجاب  ،سندھ ،خیبر پختون خواہ  اور بلوچستان کے صوبائی  ایوانوں کی بھی عکاسی ہوتی ہے جنہیں پی آئی پی ایس کے بورڈ آف گورنرز میں ان کے اسپیکروں کے ذریعے نمائندگی دی گئی ہے ۔

ایکٹ کے تحت سینیٹ کے چیَرمین اور اسپیکر قومی اسمبلی کو  بانی بورڈ آف گورنرز کے ارکان کی نامزدگی کی ذمہ داری تفویض کی گئی تھی۔ بورڈ آف گورنرز کے کردار، ادارے کی اہمیت ،مخصوص پس منظر اور تجزیے کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس قا بل عزت ذمہ داری اٹھانے کے لئے بہترین افراد کا چنا ؤ کیا ۔ بورڈ آف گورنرز کی صدارت چیئرمین سینٹ یا اسپیکر قومی اسمبلی تین تین سال کی مدت کے لئے کرتے ہیں ۔ان کے پاس ادارے کے تمام اختیارات ہیں اور کام کرنے میں ادارےکی رہنمائی کرتے ہیں ۔ایگزیکٹو ڈائریکٹر ادارے کا چیف ایگزیکٹو ہے اور بورڈ کے ماتحت کام کرتا ہے ۔  قومی اسمبلی کی اسپیکر میڈم فہمیدہ مرزا پی آئی پی ایس کے بورڈ آف گورنرز کی بانی صدر بنیں۔جنہوں نے ڈپٹی چیرمین سینٹ سینیٹر میر جان محمدجمالی کے ہمراہ جون 2010 میں پی آئی پی ایس کی عمارت کی تعمیر کا باقاعدہ افتتاح کیا۔

 

بورڈ نے مکمل طور پر ڈرافٹ تیار کرنے اور اس پر بحث کرنےکے بعد مالی اور بھرتی کے امور کے لئے جامع قوانین کی منظوری دی ۔اس طرح  میرٹ اور پیشہ ورانہ مہارت کی بنیاد پر ایک عظیم مرکز کی تعمیر کے لئے مضبوط بنیاد رکھ دی گئی ۔ اس سے اس ادارے کے امور میں دیانت داری اور خود احتسابی کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔  بورڈ نے قومی اسمبلی کے سابقہ سیکرٹری جنرل میر خان محمد گورایہ کو اس ادارے کے بانی ایگزیکٹیو ڈائر یکٹر کے طور پر بھی مقرر کیا۔

 

 پی آئی پی ایس وڑن اور مشن

پاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے پارلیمانی خدمات پارلیمینٹیر ینز کو جدید حکمت عملیوں اور طریقوں سے آراستہ کرنے ،ان کے قانون سازی اور نگرانی کے امور کو موئثر اور بھرپور انداز میں سر انجام دینے کے لئے، ایک مناسب فورم کے قیام کا  ارادہ رکھتا ہے ۔ پی آئی پی ایس پاکستان میں منتخب ارکان اور قانون سازی کرنے والے عملے کی ،پارلیمانی امور میں بہتری کے لئے اعلی معیار کی درست اور نتیجہ خیز خدمات کی فراہمی کے لئے کوشاں ہے ۔

 

مقاصد:

پی آئی پی ایس کو دسمبر 2008 میں پارلیمنٹ کے ایکٹ کے تحت قائم کیا گیا تھا اس کے اہم مقاصددرج ذیل ہیں ۔

اعلان کردہ پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے ،موضوعاتی مسائل پر آزادانہ تحقیق کرکے یا کرواکے پارلیمنٹیرینز کی مدد کرنا ۔

اسمبلیوں کے منتخب ممبران ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے عملے کے لئے پیشہ ورانہ ترقی اور آگہی کے پروگراموں کا اہتمام کرنا۔

 پارلیمنٹیرینز کو ان کے امور کی ادائیگی کے سلسلے مکمل ،درست ، بروقت اور متعلقہ معلومات اور مواد کو ترتیب دینا  اور فراہم کرنا اور اپنے ان تمام امور میں شفافیت اور احتساب کو برقرار رکھنا ۔

پارلیمنٹیرینز کو مختلف فکری و علمی وسائل اور تکنیکی معاونت  فراہم کرنا۔

 

بنیادی اقدار

پی آئی پی ایس کی ٹیم اپنے بنیادی اقدار پر عمل کر کےاپنے اس مقدس مشن کے لئے مل کر کام کرنے کے لئے کوشاں ہے۔

  • سالمیت:پی آئی پی ایس کے ماہرین اور عملہ حضرت محمد ﷺ کی سنت میں مجسم دیانتداری اور سچائی سے متاثرہیں اور جس کابانی قوم قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی کئی تقریروں میں زور دیا ہے ٹیم اپنے مشترکہ باہمی مقاصد میں مطابقت پیدا کرنے کے لئے سالمیت کو اپنی بنیادی قدر سمجھتی ہے۔
  • غیر جانبداری :ادارے کے پیشہ ورانہ ماہرین اراکین پارلیمنٹ کو با خبر فیصلہ کرنے میں مدد فراہم کرنے کے لئے، قومی مفاد کے تحفظ کے لئے ،غیر جانبدارانہ تجزیے فراہم کرنے پر کاربند ہیں جیسا  کہ پاکستان کے عوام کی خواہش ہے ۔
  • پیشہ ورانیت:پی آئی پی ایس کی ٹیم نئے تصورات اور نظریات کو سمجھنے کی، اپنے آپ کو ضروری مہارتوں سے لیس رکھنے کے لئے، ہمیشہ جستجو میں رہنے کی کاوش  کی قدر کرتی ہے ۔جو ان کو باعلم اورموئثر پیشہ وربناتی ہیں ۔
  • رسائی :پی آئی پی ایس ماہرین بروقت خدمات کی فراہمی کے سلسلے میں ارکان پارلیمنٹ کے لئےہمیشہ قابل رسائی رہتے ہیں ۔
  • پیش بندی :ادارے کی ٹیم قومی اور بین الاقوامی پیش رفتوں کے بر وقت تخمینے لگاتی رہتی ہے تا کہ ان کے مطابق اراکین پارلیمنٹ کو  ان کے ملک سے متعلق حقائق اور درپیش چیلنجوں کے بارے میں  ضروری تکنیکی مدد فراہم کر کےان کی مدد کر سکے۔

 

پی آئی پی ایس کا کردار اور فعالیت:  

پی آئی پی ایس تمام قومی اور صوبائی اسمبلیوں کو قانون سازی ،ایگزیکٹو امور کی نگرانی ، پالیسی سازی اور نمائندگی کی ذمہ داریوں کو پاکستان کے عوام کی امنگوں اور مرضی کے مطابق جمہوری نظام کی روایت کو مضبوط کرنے کی کوششوں میں خدمت فراہم کرنے کے لئے مصروف عمل ہے ۔ پی آئی پی ایس ایکٹ میں مذکور ادارے کے مینڈیٹ کے مطابق اراکین پارلیمنٹ کو  ان کی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے سر انجام دینے کے لئے ادارے کی درج ذیل ذمہ داریاں ہیں ۔

  • قومی ، صوبائی، بین الاقوامی مواد ، معلومات اور اعدادو شمار مہیا کرنا اور ان کو برقرار رکھنا۔
  • قانون سازی کے عمل میں اراکین پارلیمنٹ کو مدد فراہم کرنے کے لئے وفاقی اور صوبائی قوانین کے ضمن میں تحقیق کرنا اوربین الاقوامی  قوانین کا مطالعہ کرنا ۔
  • اراکین پارلیمنٹ کو اپنی   ذمہ داریوں کو سر انجام دینے کے لئے تکنیکی خدمات فراہم کرنا ۔
  • اراکین پارلیمنٹ اور دیگر پارلیمانی کارکنوں کو ان کے امور کی انجام دہی کے لئے تربیت فراہم کرنا
  • سیمیناروں ، ورکشاپوں اور کانفرنسوں کا اہتمام کرنا
  • قانون سازی کی ترقی کے لئے اقدامات کرنا
  • پاکستان اور اس کے ہر صوبے کے تمام موجودہ ایکٹ ، آرڈیننسوں اور دیگر وضع کردہ قوانین کا ریکارڈ رکھنا 
  • پارلیمنٹ کے امور سے متعلق عوام کی تفہیم کو یقینی بنانے کی کوششوں میں اراکین پارلیمنٹ اور قانون ساز اداروں کی مدد کرنا
  • قانون سازی کا مسودہ تیار کرنے کے کورسوں جن میں پارلیمانی طرز عمل پر خصوصی زور دیا گیا ہو کا بندوبست کرنا
  • پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے انٹرنشپ پروگرام کا انتظام کرنا
  • اراکین پارلیمنٹ کے لئے وسائل کے مراکز قائم کرنا اور ان کا حساب کتاب رکھنا
  • پارلیمانی کمیٹیوں کو ان کے فرائض کی ادائیگی میں مدد فراہم کرنا
  • پارلیمنٹ یا بورڈ کی جانب سے تفویض کردہ دیگر امور کو سر انجام دینا

pips

 

پی آئی پی ایس اسمبلیوں اور ان کے عملے کو مادی ، تکنیکی ، فکری  اور علمی وسائل فراہم کر کے،بے مثال علمی ماحول سے فائدہ اٹھانے ،پارلیمانی ارکان کو  بہتر مباحثے کے لئے تیار کرنے ، قانون سازی کے عمل کو بہتر بنا کرکامیابی کے اعلی معیار کو قائم کرنے کی خواہش مند ہے ۔

تازہ ترین مطبوعات