استعداد کار اور مہارت بڑھانے کی خدمات

پی آئی پی ایس کے اراکین پارلیمنٹ کے لئے تعارفی پروگرام پارلیمانی اہمیت کے 23 شعبوں میں موضوعاتی استعداد کار بڑھانے کی سہولت فراہم کرتا ہے ۔نئے اراکین کے لئے تعارفی پروگرام کے علاوہ اراکین پارلیمنٹ کے لئے سب سے مشہور کورسز میں مختلف موضوعات پر تعارفی سیشنز شامل ہیں ۔جیسا کہ ایوان کے طریقہ کار اور کاروائی کے قوانین ، وقفہ سوالا ت ، قانون سازی کا عمل ، قانون سازی اور قانونی تحقیق کو سمجھنا ، بجٹ طریقہ کار /تجزیہ اس کے ساتھ ساتھ کمیٹیوں کے کام اور عوامی سماعت شامل ہیں ۔اس کے علاوہ انسٹی ٹیوٹ پارلیمانی آفس مینجمنٹ پر جامع پیشہ ورانہ ، ترقی کے لئے ورکشاپس کا اہتمام کرتا ہے ۔پارلیمانی ہیومن ریسورس مینجمنٹ اور کمیٹی عملے کے لئے رپورٹس کی مختصر تحریریں

2008-09 میں پی آئی پی ایس کی جانب سےتر بیت کے ایک زیادہ موثر نظام کے آغاز کو دیکھا گیا پاکستان میں پہلی بار پی آئی پی ایس نے کامیابی کے ساتھ منتخب اراکین قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ساتھ ساتھ سینٹرز کے لئے بھی ان موضوعات جیسا کہ سیاستدان سے پارلیمنٹیرین ، پارلیمنٹ کا آئینی اختیار، پارلیمانی تاریخ ، کاروائی کے قوانین ، ایوان کی کاروائی ، پارلیمانی استحقاق ، وقفہ سوالا ت ، پارلیمنٹ کی کمیٹیوں ، قانون سازی کے عمل ،قانون سازوں کے لئے تحقیق اور معلوماتی معاونت ، پارلیمنٹ اور بجٹ ، قانون سازوں کے طور پر رکن پارلیمان اور حلقہ تعلقات پر تعارفی پروگراموں کا انعقاد کیا ۔ ان سیشنز کے دوران اراکین پارلیمنٹ کی گہری دلچسپی کی عکاسی ان سیشنز کے دوران جاندار قسم کی بات چیت سے ہوتی ہے ۔

انسٹی ٹیوٹ کے پاس تربیت کے پروگرام کی وسیع ٹریننگ موجود ہے۔ قانون سازوں میں سے یا سینئیر پارلیمانی عہدہ داروں میں سے پارلیمانی امور میں سہولت کاروں کی صلاحیت بڑھا نے کے لئے پی آئی پی ایس کے تربیتی شعبے نے تربیت کے اعلی معیار اور طریقہ کار مقرر کیے ہیں ۔اپنے پیشہ ورانہ ترقی کے کورسز چلانے کے لئے پالیمانی عملے کے لئے ۔

انسٹی ٹیوٹ کے پاس پارلیمانی ااہمیت کے 21 شعبوں میں بہتری کے لئے تازہ ترین ماڈیولز موجود ہیں ۔ یہ شامل ماڈیولز قانون سازی سے متعلق تحقیق ، قانون سازی کو سمجحنے اور ڈرافٹنگ کرنے ، بجٹ کے طریقہ کار ، پارلیمانی اسحتقاق ، ضابطہ اخلاق ، حلقہ میں تعلقات ، لائبریرینز کے لئے سافٹ ویئر اور انگریزی زبان وغیرہ سے کمپیوٹر کی بنیادی مہارتوں اور پارلیمنٹ میں یو تھ گائیڈ سے متعلق ہیں ۔

ان میں سے زیادہ تر وسیع تربیت کے ماڈیولز مشتمل ہو تے ہیں سہولت کار کی گائیڈ پر ،شمولیت کر نے والے کی کتاب اور پی آئی پی ایس کے معیار اور طریقہ کار کے مطابق تیار کی گئی پاور پوائنٹ پریڈینٹیشن پر مشتمل ہیں اور یہ ایک ہفتے کی موضوعاتی پیشہ ورانہ بہتری کے کورسوں کے لئے کافی ہوتے ہیں ۔

اس کے مطابق اراکین پارلیمنٹ ، صحافیوں ،سول سوسائٹی کے ارکان اور چھ ایوانوں کے عملے کے لئے کم از کم 270 ورکشاپیں منعقد کی جا چکی ہیں ۔ پی آئی پی ایس مختلف نوعیت کے پیشہ ورانہ ترقی کے پروگراموں کی میز بانی کر چکی ہے جیسا کہ ، سینٹ ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ارکان اور سیکریٹریٹ عملے کے لئے پالیسی سیمینار ، مسائل پر ورکشاپیں ۔پچھلے تین سالوں میں4400 سے زائد شرکاء نے شرکت کی جن میں اراکین پارلیمنٹ اور سیکریٹریٹ کے عملے کے ساتھ ساتھ اسمبلی کی کوریج کرنے والے صحافی شامل ہیں ۔

پی آئی پی ایس پیشہ ورانہ ترقی کے سالانہ پروگرام منعقد کرانے کا ارادہ رکھتی ہے ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں سے تینوں اقسام کے پارلیمانی عملے کے لئے جن میں شامل ہے بی پی ایس17 سے 18 کے افسران کے لئے پارلیمانی منیجمنٹ کے پانچ ہفتے کا کورس ،بی پی ایس 19 سے 20 کے لئے 15 روزہ س سینئیر منیجمنٹ کا پارلیمانی کورس اور بی پی ایس 20 سے 22 کے لئے 10 روزہ پا ر لیمانی قیادت کا کورس ۔ اسی طرح وزارتوں کے افسران جن کا تعلق پا ر لیمنٹ یا پار لیمانی کمیٹیوں سے ہے ان کو بھی ان کی ذمہ داریوں اور کردار سے متعارف کرایا جاتا ہے ۔

مقاصد

پی آئی پی ایس ٹرنینگ کے مقاصد ہیں ۔

  • پارلیمانی نمائندگی ، قانون سازی اور نگرانی کے افعال کو تقویت دینا اور مینجمنٹ کے افعال کو بڑھا نا اور
  • تنظیمی اکائیوں اور اسمبلیوں کے طریقہ کار کی حمایت کرنا ۔

خدوخال

پی آئی پی ایس ٹرنینگ کے اجزا ء اچھی طرح سے منظم ہیں اور

  • ان کا مقصد کم ازکم ہر نئی پارلیمنٹ کے آغاز پر پارلیمنٹ اور متعلقہ سیکر یٹریٹ کی ٹرنینگ کی ضرورت کا اندازہ لگانا ۔
  • ایک با معنی تربیتی پروگرام تشکیل دینا ، احتیاط سے ترتیب دیا گیا منصوبہ بندی کا کیلنڈر جو کہ اسمبلی کی ضروریات کے لئے ذمہ دار ہو ۔
  • پالیمنٹ کے اہم مسائل پر عالمی معیار کا تربیتی ماڈیول تیار کرنا ۔
  • شعبہ جات کے ماہرین کو تربیتی سرگرمیاں سر انجام دینے کے لئے ان کی نشاندہی کرنا اوران کی تربیت کرنا ۔
  • سیمیناروں اور کانفرنسز کے ساتھ ساتھ نتائج پر مبنی عالمی معیار کے تربیتی کورسز پیش کرنا ۔
  • اراکین پالیمنٹ اور متعلقۃ سکریٹریٹ کے عملے کو تربیتی مواد اور دوسرے الیکٹرانک وسائل مہیا کرنا اور ان کی تربیت دینا ۔
  • تربیتی پروگراموں کے معیار کی نگرانی کرنا ۔
  • کسی بھی پارلیمنٹ کی وسط مدتی اور اختتامی مدت کے لئے جدید ذرائع استعمال کرتے ہوئے نتائج اور اثرات کا اندازہ لگانا ۔
  • سہ ماہی اور سالانہ بنیادوں پر تربیتی رپورٹس کی صورت میں تربیتی پروگرام کے تتائج اخذ کر نا ۔
  • تربیت لینے والے ، دینے والےاور تقریبات کا ریکارڈ رکھنا ۔

پی آئی پی ایس نے بامعنی تربیتی پروگرام تیار کیا ہے جس کا مقصد قانون سازوں اور عملے کی استعد اد کار کو بڑحانا ہے ۔ یہ اعلی معیار کے کار گر پروگرام درج ذیل ہیں ۔

ٹرینینگ ماڈیولز سخت پی آئی پی ایس کے تربیت کے معیار اور طریقہ کار پر مبنی ہیں ۔ یہ ماڈیولز درج ذیل تربیت کے طریقوں کو موثر بناتے ہیں ۔

  • سہولت کار کی قیادت میں بات چیت
  • مختصر لیکچر
  • گروہی مباحثے
  • ذہنی آزمائش /خیالات کی درجہ بندی
  • کھل کر بات چیت کرنے والی سرگرمیاں
  • صورتحال کا تجزیہ /کیس سٹڈیز
  • ملانا /تلازمی مشقیں
  • مختصر گروہی سرگرمی
  • کردار ادا کرنا
  • بیانات پر تبصرہ
  • شرکا٫کی طرف سے پریذینٹیشنز

سیکھنے کے ماحول کو زیادہ موثر بنانے کے لئے بصری سہولیات جیسا کہ پاور پوائنٹ کی سلائیڈیں ، فلپ چارٹ اور وڈیو کلپ بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

ماہرین

بین الا قوامی قانون سازی کے ماہرین کی پاکستانی قانون سازی کے ماہرین سے شراکت داری کے ذریعے سیکھنے کے ماحول کو بامعنی بنانے پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔ اب تک جو ماہرین شامل کئے گئے ہیں ان میں برطانوی ہائوس آف کامنز کے رکن پارلیمنٹ ،وسکونسن سینٹ کے ریٹائرڈ کلرک ، بجٹ کے بین الاقوامی تجزیہ نگار ،قانون سازی ڈرافٹنگ کے ماہرین ،پاکستانی سابقہ قانون ساز ،پاکستانی سابقہ سیکریٹریٹ افسران اور میڈیا کے ماہرین وغیرہ شامل ہیں ۔

پی آئی پی ایس کے تربیتی ماڈیولز شراکتی اور شامل رہنے کی سرگرمیوں پر مبنی ہیں جس سے تربیتی ماہر شرکاءکے علم اور تجربے کو تربیتی مواد میں شامل کرنے اور بڑھانے کے قابل ہوتا ہے۔اس کے علاوہ شراکتی اور شامل رہنے کی سرگرمیوں کو استعمال کرتے ہیں

پی آئی پی ایس تمام ایوانوں اور ان کے متعلقہ پارلیمانی سٹاف کے ساتھ ساتھ ماہرین تعلیم اور سی ایس اوز کے لئے 260 سے زائد خصوصی تربیتوں / ورکشاپوں کا اہتمام کر چکا ہے ۔ ان تربیتی سیشنز میں 4400 سے زائد شرکاہ نے شرکت کی جن میں 1330 شرکاء خواتین ہیں ۔

  • رپورٹ لکھنے اور مختصر بات کرنے کی مہارتوں کی تربیت کا اہتمام 6 سے 8 دسمبر 2010 :جس میں قومی اسمبلی اور سینٹ کے 22 کمیٹی سٹاف کے ارکان نے شرکت کی ۔
  • ورکشاپ کے مقاصد تھے رپورٹ تحریر کرنے کے طریقے سیکھنا مختصر بات کرنے کے مختلف انداز اور مختصر ڈرافٹنگ کی مشقوں کا مظاہرہ کر نا ۔
  • صنفی خودآگہی 2010 :اس تعارف کا انعقاد نمائندوں میں صنفی خود آگہی کا احساس پیدا کرنے کے لئے کیا گیا ۔ تربیت فراہم کرنے کے مشہور ماہر ین روبیلہ بنگش ، عظمی شاہ اور تزین جاوید نے پر اثر سیشنز چلائے ۔
  • ذہنی تنائو اور وقت کے انتظام پر ورکشاپ 2010 : کام کرنے کی جگہ پر ذہنی تنائو اور وقت کے انتظام کے بارے میں تجاویز فراہم کیں اس کام کی معروف ٹرینر محترمہ منزہ ہاشمی نے قومی اسمبلی اور سینٹ کے سیکریٹریٹس کے عہدہ داروں کے ساتھ دلچسپ سیشن کیا۔
  • ایم ایس آفس اور انٹرنیٹ مہارتوں پر بنیادی ٹریننگ پارلیمانی سٹاف کے لئے منعقد کی گئی 25 سے 30 اکتوبر 2010 :قومی اسمبلی اور سینٹ سکریٹریٹ کے 29 کے قریب سٹاف ممبران نے عملی ہاتھوں سے کمپیوٹر ، مائیکرو سافٹ آفس سافٹ ویئرجو تمام آفسوں میں کثرت سے استعمال ہوتا ہے پر کام کرنے کی تربیت میں حصہ لیا ۔
  • تسلی بخش کام کرنے کی بنیادی مہارتوںکا انعقاد 11۔13 اکتوبر 2010 :پارلیمانی سکریٹریٹ سٹاف کے لئے ٹریننگ نے شرکاہ کو لیس کیا ا ور ایک آفس میں مختلف نظاموں پر اور اہم کاموں جیسا کہ ڈرافٹنگ ، آفس کی فائلوں کو ہینڈل کرنا ، دستاویزات کے نظام ، سٹیشنری کی خرید اری اور وقت کا انتظام وغیرہ کرنے کی مشقوں میں حصہ لیا ۔
  • آفیسر/ ذاتی عملے کی بنیادی ذمہ داریاں: سینیٹ کے 12 عہدیداروں نے شرکت کی اور اسی ٹریننگ کا دوسرا مرحلہ سٹاف کے دوسرے سیٹ کے ساتھ منعقد ہوا جس میں قومی اسمبلی سکریٹریٹ سے 10 اور سینیٹ سے بالترتیب 13 افراد نے شرکت کی ۔
  • پروٹوکول اور آداب کی آگہی کی تربیت 01 ۔ 02 اکتوبر 2010 کو منعقد ہوئی :یہ بنیادی آگہی کا پروگرام سیکرئٹریٹ سٹاف کو عوامی نمائندگان کے لئے کام کرنے کے ادب آداب سکھانے اور ان کی ضروریات اور کردار پر منعقد کیا گیا۔
  • پی آئی پی ایس کی تر بیت کاروں کو مشق کرانے کی ٹریننگ 2010 : تمام چھ ایوانوں )جیسا کہ قومی اسمبلی ، سینٹ اور صوبائی اسمبلیاں (۔ کے 23 افسران کو ساتھی سٹاف کے لئے تربیت ڈیزائن اور منتقل کرنے کی تربیت دی گئی ۔ اور انہوں نے قانون سازی کے مسائل پر پی آئی پی ایس کے تعارف میں استعداد کار بڑھانے کی سہولت کو سیکھا ۔
  • پارلیمانی صحافیوں کے ساتھ بجٹ سیشن 2010 :مشق کے مقصد میں بجٹ بنانے کے عمل میں اراکین پارلیمنٹ کے کردار پر بحث کی گئی ، صحافیوں کو بجٹ سائیکل کے مرحلوں کے بارے میں بتایا گیا ۔
  • کمیٹی سٹاف کے لئے پارلیمانی آفس کا انتظام 2010 :اس میں موثر مختصر تحریروں ، رپورٹ تحریر کرنے اور دفتری خط و کتابت کے طریقوں پر بحث کی گئی ۔ مشہور ٹرینر جناب فیض ایچ سیال نے لیڈر شپ اور ٹیم ورک پر ایک اضافی دلچسپ سیشن کیا۔
  • پارلیمانی محققین کے لئے پی آئی پی ایس کی قانون سازی پر تحقیق کی اعلی درجے کی ٹریننگ جون 2010 : تمام چھ ایوانوں جیسا کہ قومی پارلیمان کے ساتھ ساتھ چاروں صوبائی اسمبلیوں کے محققین کے لئے یہ اپنی نوعیت کی پہلی 2 روزہ ورکشاپ تھی ۔ پی آئی پی ایس کے تحقیقی شعبے کے محمد راشد مفضول ذکاء اس ورکشاپ کے سب سے اہم ٹرینر تھے ۔
  • ایم این ایز اور سینیٹرز کے لئے بجٹ کے تجزیے پر ورکشاپ 2010 : و رکشاپ میں ایم این ایز اور سینیٹرز کی بجٹ بنانے کے کردار پر بحث کی گئی ان کو موقع فراہم کیا کہ معلومات کا اندازہ لگائیں متعلقہ نگران شعبوں سے متعلقہ اور اخراجات کے حجم کا جو کہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے ۔
  • سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیوں کے محققین کے لئے قانون ساز ریسرچ ورکشاپ 2010 :صوبائی اسمبلیوں کے محققین کے لئے اپنی نوعیت کی پہلی ورکشاپ جس میں جدید تحقیقی طریقہ کار اور قانون سازوں کی ضرورت کے تعارف پر توجہ مرکوز کی گئی ۔
  • سیکریٹریز کی کانفرنس 2010 :سینٹ ، قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے سیکریٹریز کی کانفرنس کا انتظام پی آئی پی ایس کی جانب سے پی سی بھو ر بن میں کیا گیا ، پی آئی پی ایس کے پارلیمانی وسائل کے مراکز، تربیت اور پی آئی پی ایس کی تحقیق کے طریقہ کار کے معاملات کا تعین کیا گیا ۔
  • سینٹ کے لئے وسط مدتی بجٹ اور قومی اسمبلیوں کی کمیٹیوں کے سربراہوں کے جائزہ کی مشق 2010 : قائمہ کمیٹیوں کے لئے بجٹ پر جائزے اور تجزیے کے طریقہ کار پر سیشن نے توجہ مرکوز کی ۔
  • سینٹ کی قائمہ کمیٹی کے سربراہوں کی کانفرنس 2010 :سیشن بہت دلچسپ تھا جس نے موثر مشاورتی مجلسوں پر توجہ مرکوز کی اور دوراندیشی میں ان کے کردار کے ساتھ ساتھ امدادی اور قائمہ کمیٹیوں کے لئے دستیاب انسانی و سائل کو بڑھانے کی ضرورت اور طریقوں پر غور کیا ۔
  • نئے منتخب سینٹرز کے لئے تعارفی سیشن 2009 کا اہتمام کیا گیا ۔
  • پی آئی پی ایس کے انٹر نیوں کے لئے تقریبا 27 سیمیناروں کا اہتمام کیا گیا۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے نو منتخب شدہ ارکان کے لئے تعارفی سیشن 2008 )پہلا مرحلہ (ترتیب دیا گیا ۔
  • تمام چھ اسمبلیوں کے لئے ان موضوعات پر تفصیلی شرکت کے ذریعے دوسرے مرحلے کے تربیت کے سیشنوں کا انعقاد کیا ۔
  • وقفہ سوالات ، نئے قوانین اور طریقہ کار ، ایوان کی کاروائی ، موثر کمیٹیاں ، قانون سازی کے لئے ڈرافٹننگ ، بجٹ کا طریقہ کار اور تجزیہ ، باہمی رابطے کی مہارتیں ، میڈیا سے تعلقات ، قانون سازی کی تفہیم اور تنازعات کے حل وغیرہ پر ۔
  • تمام ایوانوں کے لئے فاصلاتی تعلیم کے کورسوں کا اہتمام کرنا اور معاشرتی تبدیلی کے لئے قانون سازی کرنا ۔
  • قانون ساز پالیسی اصلاحات کے اصول پر 9 ورکشاپوں کو ترتیب دیا اور منعقد کیا ۔
  • قومی اسمبلی اور سینٹ سیکریٹریٹ کے 2 2 اہلکاروں کی ان کے کام میں بہتری لانے کے لئے یو ایس لائبریری آف کانگرس لاءمیں تعارفی تربیت کی معاونت کی۔ جی ایل آئی این پاکستان کی ٹیم کے طور پر ۔)جی ایل آئی این =گلوبل انفارمیشن نیٹ ورک (۔
  • معاشرتی تبدیلی کے لئے قانون سازی پر 2 ہفتے کے کورس کا اہتمام کیا ۔
  • ایم این ایز ، سینٹرز اور سیکریٹریٹ سٹاف کے لئے پشاور اور کوئٹہ کے پی آر سی میں انگریزی زبان کے 4 اور کمپیوٹر پر 9 تربیتی کورسز کا اہتمام کیا ۔
  • پارلیمنٹ کی کاروائی نشر کرنے والے صحافیوں کے لئے لاہور اور اسلام آباد میں میڈیا ٹریننگ پر 10 ایک روزہ ورکشاپس ، پریس گیلری اور جمہوری اداروں کی مضبوطی پر پارلیمانی رپورٹنگ کے کردار پر ۔
  • تمام ایوانوں کے ریسرچ سٹاف کے لئے قانون سازی کی تحقیق پر 5 روزہ تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیا ۔
  • وفاقی اور صوبائی سطح پر سینٹرز ، ایم پی ایز کے لئے ضابطہ اخلاق اور پارلیمانی استحقاق پر چار ورکشاپوں کو ترتیب دیا ۔
  • تمام ایوانوں کے پارلیمانی ،، سیکرٹریٹ سٹاف کے ارکان کے لئے پارلیمنٹ میں وقفہ سوالات پر 9 ورکشاپوں کا اہتمام کیا ۔
  • وفاقی اور صوبائی دارلحکومتوں میں ایم پیز اور ایم پی ایز کے لئے بجٹ کے تجزیے اور طریقہ کار ،بجٹ سے قبل کی ورکشاپس پر 20 سے زائد ورکشاپوں کا اہتمام کیا ۔
  • منتخب اراکین ، پارلیمانی سٹاف ، سول سوسائٹی کی تنظیموں اور تعلیمی ماہرین کے لئے وفاقی اور صوبائی دارلحکومتوں میں قانون سازی کے اصولوں ، پالیسی اصلاحات پر 12 ورکشاپوں کا اہتمام کیا ۔

تازہ ترین مطبوعات