ایگزیکٹو ڈائریکٹر کا پیغام

جناب ظفراللہ خان نے 20 مئی 2016 بروز جمعہ کوپاکستان انسٹی ٹیوٹ برائے پارلیمانی خدمات کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے طور پر شمولیت اختیار کی۔ وہ صحافت ، پارلیمانی جمہوریت ، سوک ایجوکیشن ، آئین اور انسانی حقوق کے شعبہ جات کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں جو تین دہائیوں پر محیط ہے ۔

 

وہ ایک متنوع پیشہ ورانہ پس منظر کے حامل ہیںْ انہوں مرکز برائے سوک ایجوکیشن پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائر یکٹر کے طور پر کا م کیا ) 2004-2016 (  ،مرکز برائے سول سوسائٹی  لندن سکول آف اکنامکس  کی مرتب کردہ  سول سوسائٹی کی سالانہ کتاب  کے پاکستان کی طرف سے نامہ نگار رہے ۔ ) 2000-2006 ( ،نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ ) این ڈی آئی ( کے سیاسی پارٹیوں کے لئے ترقی کے پروگرام  کے نمایاں ٹرینر رہے ۔ ) 2004-2009 ،( بین الاقوامی اکیڈمی برائے لیڈر شپ  جرمنی کے ماڈریٹر ) 2004-2006 اکتوبر (  اور فریڈرک۔ نو عمان۔ سٹیفنگ  پاکستان کے پروجیکٹ ڈائریکٹر رہے ) 2000-2004 )  جہاں انہوں نے سوک ایجوکیشن،  ڈیموکریٹک ٹرینگ ، رابطے کی مہارتوں اور انسانی حقوق کے شعبہ جات میں کام کیا ۔ انہوں نے ایل ای اے ڈی پاکستان کے ساتھ مواصلات کے مشیر کے طور پر کام کیا ۔ منصوبہ جس کے لئے سرمایہ  راک فیلر فاو نڈیشن نے فراہم کیا ۔ ) 1998-99 ( میڈیا کی حا لت اور آزادی صحافت رپورٹ برائے پاکستان کے ایڈیٹر رہے ) 1995-2001 ( وہ روزنامہ دی فرنٹیر پوسٹ کے بیوروچیف بھی رہے ہیں ۔ ) 1991-96 (

برطانیہ کے لندن سکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کی طرف سے جناب ظفراللہ خان کو مواصلات میں  ایم ایس سی کی ڈگری جاری کی گئی ) 1999-2000)  ان کی مہارت خصوصی پولیٹیکل کمیونی کیشن ، موثر شہریت اور سائبر سوشیالوجی کے شعبہ جات میں ہے ۔ انہوں نے 1989-91 میں ایم فل بھی کیا اور قائداعظم یو نیورسٹی اسلام آباد  کے شعبہ  سوشل سائنسز  کی خصوصی نشست سے پاکستان سٹڈیز میں ایم ایس سی کی ) 1987-89 ( انہوں نے پولیٹیکل سائنس اور تاریخ کے مضامین کے ساتھ گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کی ) 1984-86

 

  انہوں نے سیٹیزن وائر(www.citizenwire.com)کے ایڈیٹر ) اعزازی ( کے طور پربھی خدمات  سر انجام دیں ۔ سیٹیزن وائر انٹرنیٹ پر چلنے والی ایک ایجنسی ہے جو جمہوریت ، آئین اور عوامی پالیسی کے مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔ وہ پرنٹ میڈیا اور براڈ کاسٹ کے اہم اداروں کے لئے مبصر ، تجزیہ نگار / فری لانس کے طور پر لکھتے ہیں ۔ وہ دسمبر 2000 سے اگست 2002 تک پاکستان ٹیلی ویژن کے صبح کے وقت براہ راست نشر ہونے والے حالات حاضرہ کے پروگرام کے میزبان رہے ۔انہوں نے وزیر اعظم اور پارلیمنٹ کی سرگرمیوں / پالیسوں کو نشر کیا ۔

انہوں نے وفاقیت ، سوک ایجوکیشن ، پارلیمانی جمہوریت اور آئین کے موضوعات پر کئی تصانیف تحریر کی ہیں ۔ پاکستان کے سینٹ نے حال ہی میں ان کی کتاب کنسسٹنٹ پارلیمینٹیری کورڈ۔فنڈامینٹل رائٹس آف سیٹیزنز  آف پاکستان  شائع کی  اور 12 اپریل 2016 میں آئینی دن کے موقع پر اس کی خصوصی اشاعت  بھی کی ہے ۔

جناب ظفر اللہ خان نے مختلف کتابوں کے لئے اسباق بھی تحریر کئے ہیں جن میں شامل ہیں

 

  1. فیو چر آف  پاکستانی فیڈریشن: مشترکہ مفادات کونسل کی ایک کیس سٹڈی،فیض ،اے۔) (2015 میں  میکنگ فیڈریشن ورک، کراچی، آکسفورڈ
  2. سائبیریا :ایک نیا جنگ کا خطہ ،یوسف،ایم۔) (2014میں،پاکستانز کاؤنٹر ٹیررازم چیلنج،واشنگٹن ڈی سی،جارج ٹاؤن یونیو رسٹی پریس۔
  3. کونسٹی ٹیو شنل ری فارمز  ان پاکستان:اٹھارویں ترمیم کے بعد وفاقیت،ہیجی مر ،سی۔اینڈ بوہلر،ایچ۔(ای ڈی)۔ ) (2013  میں،فیڈرل ازم ان ایشیا اینڈ بی اونڈ:ماڈلز ،بیسٹ پریکٹسز اینڈ نیو چیلنجز،میونخ،ہینس۔سیڈل۔سٹیفنگ۔

 

جناب ظفر اللہ خان ملک کی سول سو سائٹی کی نمایاں شخصیت ہیں جنہوں نے مختلف ایوارڈز اور اعزازات حاصل کئے ہیں جن میں شامل ہیں رول آف آنر (ڈیبیٹنگ)گورنمنٹ کالج لاہور ) 1986 ( ،بہترین ڈی بیٹر  قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد ) 1988 ( برطانوی چیوننگ سکالرشپ ) 1999-2000 ( سیاحوں کا بین الاقوامی پروگرام ) یو ایس اے ( ) 1996)  1996 کے صدارتی انتخابات کی کوریج کے لئے اور گرین جرنلسٹ ایوارڈ 2001 وزارت ماحولیات حکومت پاکستان 

تازہ ترین مطبوعات

Poll

Quaid i Azam Muhammad Ali Jinnah preferred Parliamentary authority which allows chosen representatives to take all State decisions as against any dictatorial or aristocratic system.
Yes
90%
No
10%
Total votes: 110