صدر کا پیغام

معزز سردار ایاز صادق

اسپیکر پاکستان قومی اسمبلی

( 9 نومبر 2015 تا حال )

اسپیکر پاکستان قومی اسمبلی

(3 جون 2013۔22اگست 2015 )

ممبر پاکستان قومی اسمبلی

( 12 ویں قومی اسمبلی-- 2002-2007 )

( 13 ویں قومی اسمبلی-- 2008-2013 )

( 14 ویں قومی اسمبلی 2013-2015-- )

( اسپیکر 14 ویں قومی اسمبلی 2015-- تا حال )

صدر دولت مشترکہ پارلیمانی ایسوسی ایشن

 ای سی او ممالک کی پارلیمانی اسمبلی کے صدر

قائم مقام صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان

معزز سردار ایاز صادق 9 نومبر 2015 میں 268 ووٹ لے کر پاکستان قومی اسمبلی کے دوبارہ اسپیکر منتخب ہوئے ہیں ۔ انہوں نے نئی پارلیمانی تاریخ رقم کی ہےاور ایک ہی مدت ک دوران اسمبلی کے دو بار اسپیکر منتخب ہوئے ہیں۔

خاندانی پس منظر

سردار ایاز صادق 17 اکتوبر 1954 کو پنجاب کے سب سے بڑے شہر لاہور میں ایک معروف کاروباری خاندان میں پیدا ہوئے ۔ ان کا خاندان 1947 میں ملک کی آزادی کے وقت وہاں سکونت پذیر ہوا تھا ۔

ان کے والد شیخ محمد صادق نے نہ صرف ایک کامیاب کاروباری شخصیت کے طور پر اپنا لوہا منوایا بلکہ ایک عوام دوست شخصیت کے طور پر بھی اپنی پہچان کرائی  اور یہی عوام دوستی کا جذبہ ان کی بیگم عطیہ صادق میں بھی موجود تھا ۔ سردار ایاز صادق کے دادا شیخ سردار محمد اپنے وقت کے اصلاح پسند تھے ،لاہور میں شیخ سردار گرلز ہائی سکول کے نام سے مسلمان بچیوں کے پہلے سکول کے قیام کا سہرا ان  ہی کے سر ہے ۔شیخ سردار محمد ساٹھ کے دہائی کے اوائل میں شہر کے ڈپٹی میئر بھی منتخب ہوئے تھے ۔ سردار محمد بعد میں بانی قوم قائداعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح کی اس وقت کے فوجی آمر فیلڈ مارشل ایوب خان کے خلاف جدوجہد میں شامل ہو گئے اور فوجی حکومت کی قیدوبند کی مشکلات کا سامنا کیا ۔ 16 اکتوبر 1994 میں ان کے خاندان نے ان کی یاد میں ’’سردار ٹرسٹ آئی ہسپتال ‘’کے نام سے آنکھوں کا ایک رفاہی ہسپتال تعمیر کیا جو ضرورت مندوں اور غریبوں کے لئے خدمات انجام دے رہا ہے ۔ہسپتال ان معروف ہسپتالوں میں سے ایک ہے جہاں کورنیا کی پیوندکاری بالکل مفت کی جاتی ہے ۔

جناب ایاز صادق نے 1977 میں ایک پڑھی لکھی اور سرگرم سماجی کارکن مس ریما ایاز سے شادی کی وہ لاہور ہائی کورٹ کے معروف چیف جسٹس اور پاکستان کے پہلے وفاقی محتسب جناب جسٹس ) ریٹائرڈ ( سردار محمد اقبال کی صاحب زادی ہیں۔ اس جوڑے کو خدا نے دو بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا ہے۔

ابتدائی زندگی اور تعلیم

ایک خود ساختہ ، محنتی ، کاروباری خاندان سے تعلق رکھنے کی بنا پر ان کے لئے اعلی اخلاقیات پر مبنی تعلیم کے حصول پر زور لازمی شرط قرار پایا ۔ جب ایاز صادق کو  ایچی سن کالج لاہور میں بھیجا گیا تو ان کی والدہ نے اپنے  بچے کی پرورش کے لئے سخت اخلاقی ، مذہبی اور سماجی اقدار کے ضابطے کو یقینی بنایا ۔ سینئر کیمبرج کے بعد ایاز صادق کامرس میں بیچلرز مکمل کرنے کے لئے پنجاب یونیورسٹی کے معروف  ہیلے کالج  آف کامرس میں چلے گئے ۔ ان کو کالج کی کرکٹ اور ہاکی ٹیم کے ممبر ہونے کے ساتھ ساتھ لاہور کے جونیئر ٹیبل ٹینس چیمپئن ہونے کی وجہ سے ایک پرجوش کھلاڑی کے طور پر یاد کیا جاتا ہے ۔

سیاسی کیرئیر

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد سردار ایاز صادق نے خاندانی کاروبار میں شمولیت اختیار کی ۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے سماجی بہبود کی سرگرمیوں میں بھی گہری دلچسپی لینی شروع کر دی جو ان کے خاندان کی روایت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ  وہ ستم رسیدہ لوگوں کی مشکلات کو سمجھنے کے قابل ہوئے اوراس طرح سیاسی طور پر سرگرم ہو کر سماجی اصلاحات لانے کے جذبے سے سرشار ہوئے ۔ انہوں نے 1997 میں باقاعدہ طور پر عملی سیاست میں قدم رکھا اور بعد میں یکم فروری 2001 میں مسلم لیگ نواز میں شمولیت اختیار کی ۔ پی ایم ایل۔ این  میں انہوں نے جب شمولیت اختیار کی تب ایک فوجی بغاوت کے ذریعے وزیر اعظم نوز شریف ْْْْْْحکومت کو غیر  آئینی طور پر ختم کر دیا گیا تھا جو ان کے لئے حزب اختلاف کے مشکل سیاسی سفر کا باعث بنا۔ وہ اپنے منتخب کردہ رستے پر ثابت قدم رہے اور قیدو بند اور سیاسی انتقام کی مصیبتوں کو بہادری سے برداشت کیا ۔ پی ایم ایل۔ این کے مرکزی مالیاتی سیکرٹری اور سنٹرل ورکنگ کمیٹی کے ممبر کے طور پر انہوں نے پارٹی کو تمام سطحوں پر منظم کرنے کے لئے تندہی سے کام کیا ۔

پارلیمنٹ میں ان کی اولین شمولیت 2002 میں ہوئی جب وہ بیک وقت قومی اور صوبائی اسمبلی کے لاہور سے رکن منتخب ہوئے ۔انہوں نے قومی اسمبلی کے رکن کے طور پر حلف اٹھانے کا فیصلہ کیا  اور فنانس ، ریلوے اور دفاعی پیداوار کی سٹینڈنگ کمیٹیوں کے ممبر کے طور پر خدمات سر انجام دیں ۔ 342 اراکین پر مشتمل قانون ساز ایوان میں  وہ اپنی پارٹی کے 19 اراکین میں سے ایک تھے ۔

2008 میں وہ دوسری مدت کے لئے قومی اسمبلی میں  کامیابی سے واپس آئے اور ریلوے کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین منتخب ہوئے ۔ انہوں نے مکمل طور پر با اختیار پبلک اکاونٹس کمیٹی اور پارلیمانی کمیٹی برائے کشمیر کے رکن کے طور پر بھی خدمات سر انجام دیں ۔ اسی مدت کے دوران انہوں نے اس وقت کی قومی اسمبلی کی اسپیکر کے “پارلیمانی دوستی کے گروپس” کے خیال کو عملی جامہ پہنا تے ہوئے اس کے  لئے قوانین مرتب کرکے ان کی مدد کی ۔ پاک  جرمن پارلیمانی دوستی گروپ کے کنو یئنر کے طور پر ان کی کاوشیں دونوں ممالک کے درمیان مضبوط پارلیمانی تعلقات کو استوار کرنے میں زوداثر ثابت ہوئیں ۔

سردار ایاز صادق 2013 کے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کر کے مسلسل تیسری دفعہ پارلیمنٹ کے  رکن منتخب ہوئے ۔ انہوں نے نوے ہزار سے زائد ووٹ حاصل کیے ۔ پارٹی اور پارلیمنٹ کے لئے ان کی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو اسپیکر کے عہدے کے لئے نامزد کیا گیا ۔ وہ اس آئینی عہدے کے لئے دو تہائی اکثریت کے ساتھ منتخب ہوئے ۔

اسپیکر کے طور پر ان کا کردار ۔

سردار ایاز صادق  اسپیکر کے عہدے میں وسیع تجربہ اور منفرد دلکشی لائے ہیں ۔ ان کے غیرجانبدارانہ رویے نے اس کرسی کی تکریم کو تقویت بخشی ہے،  وہ وزارت خزانہ کے اعتماد کے ساتھ ساتھ اپوزیشن کے لئے یکساں طور پراحکامات دیتے ہیں ۔

اسپیکر کے طور پر انہوں نے ایوان اور سیکریٹیریٹ کی قانون سازی اور انتظامی سرگرمیوں میں اصلاحات کے لئے کئی منصوبوں کا آغاز کیا ہے ۔ ان میں پارلیمانی معاملات کی خودکاری ، کمیٹی نظام کو موثر بنانا ، مقابلے کے امتحانات کے ذریعے سخت میرٹ کی بنیاد پر بھرتی کےپالیسی نظام کو متعارف کرانا  اور قومی اسمبلی میں ہیومن ریسورس ڈیپارٹمنٹ کا قیام شامل ہے ۔

اسپیکر کے طور پر سردار ایاز صادق کا ایک اہم کام اقوام متحدہ کے پوسٹ میلینئم ترقیاتی اہداف ) ایم ڈی جیز  (   کے ایجنڈے کے تناظر میں پائیدار ترقی کے اہداف) ایس ڈی جیز ( پر پارلیمانی ٹاسک فورس کا قیام ہے اس سے پاکستان کی پارلیمنٹ دنیا کی پہلی پارلیمان بن گئی ہے  جس نے ترقیاتی ایجنڈے کو انتہائی ترجیح دی ہے جس کو مختلف فورموں پر “رول ماڈل” کے طور پر بیان کیا جاتا ہے ۔

ان فورموں میں اقوام متحدہ اور دولت مشترکہ کی پارلیمانی ایسوسی ایشن ) سی بی اے ( شامل ہیں انہوں نے قومی اسمبلی کے لئے ایک جامع ، طویل المدتی حکمت عملی کامنصوبہ بھی ترتیب دیا ہے ۔ انہوں نے یہ تمام اقدامات پارلیمانی ترقی کے تمام شعبہ جات کو تقویت دینے کے لئے اٹھائے ہیں ۔

انہوں نے تعلیمی اداروں کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کے لئے اہم کردار ادا کیا ہے تاکہ اراکین پارلیمنٹ کے لئے اعلی معیارکی تحقیقاتی سہولیات میسر ہوں ۔ یہ ان کی ذاتی نگرانی اور حوصلہ افزائی کا نتیجہ ہے کہ 53 سے زائد معروف یونیورسٹیاں اور اعلی ادارے پارلیمانی سٹڈیز سے متعلقہ کورسوں کو مضمون کے طور پر شامل کرنے پر رضا مند ہوئے ہیں تاکہ تعلیم یافتہ افراد ی قوت کو متوجہ کیا جا سکے اور اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں پارلیمنٹ اور اس کے افعال کی بہتر سمجھ کو فروغ دیا جا سکے۔ کم از کم 4 یو نیورسٹوں نے بیان کئے گئے کورسز کا کامیابی سے آغاز بھی کر دیا ہے جب کہ دیگر جلد ہی یہ کورسز شروع کروانے والے ہیں ۔

 مزید برآں پارلیمانی بالا دستی کے پرجوش حامی ہونے کے ناطے سردار ایاز صادق نے نوجوان ذہنوں میں پارلیمنٹ کے بطور ادارے کے طور پر تصور کو ازسرنو ابھارنے کی ضرورت پر خصوصی زور دیا ہے۔ نو جوان طلبا کے بیچز کو باقاعدگی کے ساتھ مدعو کیا جاتا ہے کہ وہ ایوان کی کاروائی کا مشاہدہ کریں ۔ایک مناسب تعداد میں نوجوان گریجویٹس کو قومی اسمبلی کی مختلف برانچوں میں کام کرنے کے لئے انٹرن شپ کی بھی پیش کش کی گئی ہے۔

 سادگی اور لاگت میں کمی پر خصوصی زور نے ان کو اس قابل کیا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کا موثر آڈٹ کر سکیں ۔اس سے سرکاری خزانے کے استعمال میں بچت لانے والے اقدامات کرنے میں ان کو مدد ملی ہے ۔ پارلیمنٹ کی توانائی کی ضرورت کو شمسی توانائی سے پورا کرنے کے آئیڈیے کو متعارف کرایا ۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے کام کا آغاز ہو چکا ہے اور پاکستان کی پارلیمنٹ دنیا کی پہلی “گرین پارلیمنٹ” بن جائے گی ۔

اسپیکر کے آئینی عہدے کے حامل ہونے کے طور پر انہوں نے صدر اور چیئرمین سینٹ کی عدم موجودگی میں کئی بار پاکستان کے قائم مقام صدر کے طور پر ذمہ داریاں سر انجام دی ہیں ۔

پارلیمانی سفارتکاری

سردار ایاز صادق نے دوسرے ممالک کی پارلیمانوں کے ساتھ معنی خیز شراکت داری قائم کرنے کے لئے طویل عرصہ کام کیا ہے اس وقت سے جب  کہ وہ ابھی اپوزیشن کے رکن تھے ۔پارلیمانی دوستی کے گروپس  ) پی ایف جیز ( کے قوانین کے مصنف کے طور پر پارلیمانی سفارت کاری کو فروغ دینے کے لئے درکار ضروری اجزا  کے لئے ایک واضح روڈ میپ تجویز کیا ہے چنانچہ اسپیکر منتخب ہونے کے فورا بعد انہوں نے غور شدہ 88 پی ایف جیز کے لئے وقف کنوینئرز کو مقرر کرکے ان کو دوبارہ منظم کیا ۔انہوںنہ صرف ان گروپوں کے باقاعدہ اجلاسوں کو یقینی بنانے میں ذاتی دلچسپی لی بلکہ ان کو عالمی برادی کے ساتھ دیر پا اور با مقصد تعلقات استوار کرنے کی ذمہ داری دی بھی تفویض کی ہے ۔

مختلف بین الپارلیمانی اسمبلیوں ، دولت مشترکہ پارلیمانی کانفرنس ، جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم ) سارک( کے اسپیکرز اور اراکین پارلیمنٹ ، ایشیائی پارلیمانی اسبملی اور دیگر میں ان کی عملی شمولیت کثیر الجہتی فورموں میں ان کی دلچسپی کا ثبوت ہے ۔

اس وقت وہ

  • دولت مشترکہ کی پارلیمانی ایسوسی ایشن ) سی پی اے ( کے صدر ہیں ۔
  • اقتصادی تعاون کی تنظیم کے ممالک کی پارلیمانی اسمبلی ) پی اے ای سی او ( کے صدر ہیں ۔
  • اور سارک اسپیکر ز اور ارکان پارلیمنٹ کی ایسوسی ایشن کے سابق صدر ہیں ۔

یہ ان کی قیادت کا نتیجہ ہے کہ پاکستان 2015 میں پہلی دولت مشترکہ کی پارلیمانی کانفرنس کی میزبانی کرے گا ۔

جس میں 53 ممالک کی پارلیمنٹس کے 167 اراکین شرکت کریں گے ۔

 

بین الاقوامی سفر

سردا ایاز صادق نے رکن پارلیمنٹ کے طور پر اور اسپیکر کی حیثیت سے دنیا کے مختلف علاقوں کا وسیع پیمانے پر سفر کیا ۔ انہوں نے سرکاری اور ریاستی مہمان کے طور پر متعدد دوست ممالک کے لئے پارلیمانی وفود کی قیادت کی

 ان میں شامل ہیں

سعودی عرب                                                 روس                              

ترکمانستان                                           بحرین                                      

سوئزرلینڈ                                            سری لنکا

مالدیپ                                                 برطانیہ                                     

کیمرون                                                         سپین

کیوبا                                                   کویتمتحدہ عرب امارت

تازہ ترین مطبوعات

Poll

Quaid i Azam Muhammad Ali Jinnah preferred Parliamentary authority which allows chosen representatives to take all State decisions as against any dictatorial or aristocratic system.
Yes
90%
No
10%
Total votes: 110